2:41 AM
وہ دن قیامت سے کم نہیں تھا جب ہم اپنی ماں کی میت کے گھر بیٹھے ہوئے تھے اور نہ کوئی ان کو غسل دینے کو تیار ہونا جنازہ پڑھانے کو اور بنانے کے لیے بھی اجازت نہیں دی آخری بار مجبور کی آزمائش کیوں آخر مولوی صاحب کے جنازہ پڑھانے سے انکار کرنے کے بعد گاؤں کی برادری اور قبرستان کی قائمہ کمیٹی نے متفقہ فیصلہ کردیا تھا کہ میری ماں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جا سکتا میں شرجیل احمد ہوں میرا تعلق آزاد کشمیر سے ہے میں آج تک انگلینڈ میں مقیم ہو ہم تین بھائی ہیں میری دو بہنیں ہیں ہم تینوں ماشاءاللہ سے قرآن ہیں میری بہنیں بھی اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ برطانیہ میں مقیم ہے میں آج عرصہ دراز تک بات اپنے وطن واپس آیا تو وہ بھی وقت اپنی ماں کی قبر پر حاضری دینے کے لیے آیا میری ماں کی قبر گاڑیوں اور گھا سے اٹی پڑی تھی پورے قبرستان میں واحد کا بھتیجا وارث لگ رہی تھی وہ میری ماں کی قبر تھی میں نے قبر میں اکیلے جھاڑیوں کو کہا کیا اور قریبی کھیتوں کے مالک سے اجازت لے کر تازہ خبر پر ڈالی اور پانی کا چھڑکاؤ کیا اور قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگا جب تلاوت کر چکا تو دعائے مغفرت کے لیے ہاتھ اٹھائے اور ہاتھ اٹھاتے ہیں میرا ماضی میرے سامنے ایک فلم کی طرح چلنے لگا اور میں سوچنے لگا کہ کاش قبر میں موجود عورت واقع ہیں مجھے جنم دینے والی میری سچی ماں ہوتی مگر وہ سلیمانی سیٹیں خالی پڑی تھی البتہ تھی اس کی ماں سے بڑھ کر جب ہم تینوں بہن بھائی میں چار سال سے بھی کم عمر کے تھے تو ہماری سگی ماں ہمیں ہمارے باپ کے ساتھ چھوڑ کر اپنے وقت کے ساتھ محبت کی شادی رچا کر چلی گئی جب جنم دینے والی ماں نے ترس نہ کھایا تو آپ سے بھلا کیسے امید کرسکتے تھے آپ نے بھی ہمیں ہمارے ہاں کے حوالے کردیا اور ساتھ یہ کہ ہم اس کو نہیں میری نانی کا پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا اور میری ماں کو کتنا بڑا قدم اٹھانے کے بعد نہانا بھی بستر سے چلا گیا اور پھر ایک دن ہمیں اللہ اور ہماری خالہ ماں کے حوالے کر کے سے جا ملے میری نانی کی موت کے بعد خالہ نے ہماری کفالت کی ذمہ داری لے لی اور ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے کوئی ماں کے روپ میں دیکھا اور خالہ کی موت کے بعد ہم پر یہ راز عیاں ہوا کہ مرنے والی عورت ہماری سلیمان نہیں بلکہ خالہ تھی لہذا میں اور میری بہن کو ہم کہتے ہیں اگر قائدین اکرام کی آسانی کے لئے کہانی میں اخلاقی اقدار کو فلاحی لکھیں گے میری خالہ ہماری کفالت کے لیے ہر قسم کی محنت مزدوری کی بہت زیادہ مشقت کی مگر پھر بھی ہو اتنا نہ کم آتی کہ ہماری کفالت کرنا ان کی خالہ کی شدید خواہش تھی کہ کوئی آدمی ہماری کفالت کی ذمہ داریاں سنبھالے اور ان سے نکاح کر لے مگر ایسا نہیں ہوسکا جو کہ خالی تھی وہ جہیز وغیرہ بھی نہیں تھا اس میں کوئی بھی نکاح کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا ایک دو آدمی خیال میں اگر انہوں نے بھی ہماری کفالت کا ذمہ اٹھانے سے انکار کر دیا اور ہمیں بے سہارا چھوڑ کر ہماری خان شادی کرنے سے انکار کردیا جو گزرتا گیا خالہ کے لئے ہماری کفالت مشکل تر ہوتی گئی یہاں تک کہ میری خالہ نے لوگوں کی گڑیا اور گندی نالی تک صاف کرکے ہمارے لئے جس کا کیا مگر پھر بھی ہم پیٹ کا جہنم نہ حرص کی خالہ نے ہمیں مدرسے میں داخل کروا دیا اور خود شادی بیاہ کی تقریبات میں بطور ڈانسر ناچ گا کر ہمارے لئے روٹی کمانے لگے جب ہماری خالہ جان کے شادی بیاہ میں ناشتا شروع کیا تو گاؤں والوں نے ہم سے بائیکاٹ کردیا یہاں تک کہ مدرسے سے بھی نکال دیا گیا تو خالہ نے ہمیں قریبی گاؤں میں موجود ایک دوسرے مدرسے میں داخل کروا دیا گیا ایک انتہائی اچھے رہتے اور بڑی عمر کے استاد نے ہم تینوں بہن بھائیوں کو رات مدرسہ میں رہنے کی اجازت دے دی رات کو دیر سے گھر آتی اور صبح نو بجے ہمیں گھر سے گھر لے آتی آپ کو چار بجے جب خالی پن کے لیے اپنی غلطی تو ہمیں مدرسے میں چھوڑ کر چلی جاتی ہم بہن بھائیوں نے بھی شادی قرآن پاک بھی حفظ نہیں کیا تھا لیکن پتہ چلا کہ شادی کی پاکستان کے چند نشے میں دھت بااثر لوگوں نے یہی خالہ کی عزت پامال کرتی ہے میری خالہ نے پولیس میں رپورٹ درج کروانے کی کوشش کی تو پولیس آفیسر نے یہ کہتے ہوئے رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا کہ کنجریوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی اور جھٹکا لگا کر اپنے سینے کو کہنے لگا اور اسی قدر اس جیسی کنجریوں کی عزت لوٹنے کی رپورٹ درج کرنے لگے تو تھانے میں رہنے کی جگہ نہیں ملے گی بس ہر جگہ ایف آئی آر کروا سکتے ہیں بڑی ملے گی اور پھر پورا عملہ کہنے لگا کر ہنسنے لگا جب مال ہو جانے کے بعد پولیس والوں کے ہاتھوں کی دس سال برداشت نہیں کر سکتی اور گھر آ کر ایک خط اور ساری جمع پونجی ہمارے مدرسے کے استاد محترم کو دینے کے بعد ہمیں ان کے حوالے کیا اور گھر آکر خود کو آگ لگا کر خود کشی کی 

خود کشی کرنے کے بعد میری خالہ کو ہمارے گاؤں والوں نے اپنے قبرستان میں دفن کرنے سے منع کردیا یہاں تک کہ مولوی صاحب جنازہ پڑھانے اور باقی لوگوں نے پڑھنے سے انکار کردیا تو مجبورا ہمارے مدرسے کے اساتذہ میں ابھی بیگم کے ذریعے ہماری خالہ کو غسل کے بعد کفن پہنایا اور پھر اپنے چند قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ خالہ جان کا جنازہ پڑھایا اور قبرستان کے قریب زمین سکڑ دفن کر دیا اس کے بعد نے ہماری ذمہ داری اٹھالی ہمیں کروا کر علم کی کوشش کرو آئے اور پھر اپنے آنے والے کے ذریعے برطانیہ بھجوا دیا یہ میں آج بھی ایک مسجد میں امام ہو میری بہنوں کی شادی بھی مناسب سائز میں کروا دیں میری بہن برطانیہ میں مقیم ہے ہماری خالہ نے اپنی ساری جمع پونجی ہمارے استاد محترم کو دے دیں تاکہ وہ ہمیں بھی تیز رفتاری کے باعث کئی میری خالہ کی طرف سے ہمارے لئے لکھے گئے خط میں فقط چند فقرے لکھے تھے کہ بیٹا مجھے پتا ہے جب تم لوگ بہت سنبھالو گے میں تمہارے لئے ہم انہیں گالی بن چکی ہو گی مگر میری شدید خواہش ہے کبھی بھی میں تم لوگوں کو یاد آؤں تو میرے لئے مغفرت کی دعا کرنا اور آخری لائن خاص کر میری بہنوں کے نام سے میری پیاری بیٹی میں یاد رکھنا سب سے کبھی دور نہ جانا مذہب سے دوری عذاب ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی یہ ساری باتیں سوچ کر میں آج اتنا رویا کہ میری اس وقت کی جب آنکھوں سے آنسو ختم ہوگئے تو اٹھ کر اپنی اگلی منزل کی جانب چل دی میری کہانی میں میرے پڑھنے والے تمام لوگوں کو نصیحت ہے کہ مذہب سے دور نہ جانا مذہب سے دوری آزاد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی میں نہیں جانتا میں ریسرچ کی ماں کا کیا حال ہوا ہوگا لیکن اپنی خالہ کے لیے میرا دل تڑپتا ہے شاید میری خالہ کی دعائیں ہیں جو آج ہم تینوں بہن بھائی اعلی مقام پر ہیں اور پرسکون زندگی گزار رہے ہیں اور ہاں ان مولوی صاحب کی محنت جنہوں نے کیمو پر اپنا شفقت بھرا ہاتھ رکھا 

0 Comments